Are You Looking for Sad Urdu Poetry?


            Welcome Here. This Post Is For You. In This Post You Will Find Sad Poetry, Urdu Sad Shayri, 2 Lines Poetry, 2 Lines Sad Poetry, Urdu Sad Love Poetry. Hopefully You are Going To Like It.






Itna B Hum Sy Naraz Mat Hua Kro
Bad Qismat Zaroor Hen Magr Bewafa Nahi


Kabi Hmsy B Do Pal Ki Mulaqaat Kr Liya Kro
Kya Pta Aj Hum Taras Hen Kl Tm Dhondaty Reh Jao


Yaad Krna B Gunah Samjhtay Ho Sahib
Bary Parhez Gaar Ho Gy Ho


Sabaq Jab Yaad Krta Hu Tou Khud Ko Bhool Jata Hu 
Mazameen Muhabbat Me Kitaab Ulti, Nisaab Ulta 


Samajh Kr Maaly Ghanimat Mujh Ko
Uski Yaadon Ny Bepanah Luta


Usko Bolo Ak Kheraat Kry Mujh Pe
Usko Bolo Na Baat Kry Mujh Sy


Dil B Ik Zid Pe Arra Hy Kisi Bachy Ki Tarha
Ya Tou Sab Kch Hi Isy Chahiye Ya Kch B Nahi


Mar K Kisi Ko Kya Ilzaam Dengy Apni Maut Ka
Yahan Satany Waly B Apny Aur Dafnany Waly B Apny



✍🏻 *وصی شاہ:*
اسے ہم یاد آتے ہیں فقط 
فرصت کے لمحوں میں
                  مگر یہ بات بھی سچ ہے
                   اسے فرصت نہیں ملتی
🌷🌸🌹🌸🌷
✍🏻 *غالب:*
ہم تسلیم کرتے ہیں ہمیں 
فرصت نہیں ملتی
               مگر جب یاد کرتے ہیں تو 
               زمانہ بھول جاتے ہیں 
🌷🌸🌹🌸🌷
✍🏻 *اقبال:*
زمانہ بھول جاتے ہیں 
تیری اک دید کی خاطر
                خیالوں سے نکلتے ہیں
                تو صدیاں بیت جاتی ہیں
🌷🌸🌹🌸🌷
✍🏻 *ساغر:*
صدیاں بیت جاتی ہیں 
خیالوں سے نکلنے میں
                مگر جب یاد آتی ہے تو 
              آنکھیں بھیگ جاتی ہیں


🖋عامر لکھنوی

 یہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں 
 تمہے جب یاد کرتے ہیں 

یہ تمسے کہہ دیا کس نے 
تمہے ہم بھول بیٹھے ہیں



```مُحبّت طویل قُربت کا ردِ عمل نہیں ہے یہ تو وحی کی طرح ہماری رُوحوں میں اُتاری جاتی ہے، یہ تو ایک احساس ہے جو محسوسات سے ماورا ہے یہ احساس روحانی ھم آہنگی سے جنم لیتا ہے۔ ہم جذبہ مُحبّت کی تخلیق پہ قادر نہیں ہیں، اسے ایک مُدت کیا، صدیوں میں بھی تخلیق نہیں کِیا جا سکتا۔،۔،```





*زندگی  میں بہت سے موسم اور لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ، کوئی خزاں کی طرح روکھا ، کوئی بہار کی طرح ترو تازہ ، کوئی گرمی کی طرح شدید ، کوئی سرما کی طرح سرد ، اور کوئی ساون کی طرح دوغلا ، ہم دوسروں کو ان کی تاثیر پر نہیں ، اپنی "ضرورت" کے معیار پر پرکھتے ہیں ، اسی لیے ضررت بدل جانے پر ، روئیے بھی بدل جاتے ہیں ، ہر وقت دیکھنے والی آنکھیں ، اچانک ماتھے پر پیوست ہو جاتی ہیں ، نظر میں التفات نہیں رہتا ، لفظوں میں مٹھاس کم پڑ جاتی ہے ، قدم بھاری بھاری ، ہاتھوں میں لغزش ، اور ؟؟؟ ایسے ہی بہت سے انسان ٹوٹ جاتے ہیں ، روز ٹوٹتے ہیں ، روز ہی بکھر جاتے ہیں




شاعر: مُحسن نقوی

ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی 
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی 

مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا 
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی 

اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو 
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی 

مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص 
حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی 

وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا 
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی 

سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں 
شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی 

تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید 
سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی 

محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل 
درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی



بہت کچھ ھم نے دیکھا ، دیکھنے کو
رہا دنیا میں اب کیا دیکھنے کو
مریضِ غم کا مَنکا ڈھل چکاہے
چلو ،اب رہ گیا کیا دیکھنے کو
تجھے دیکھے نہ کیوں سارا زمانہ
کہاں ملتا ہے تجھ سا دیکھنے کو
مجھے اُٹھ اُٹھ کے سب محفل نے دیکھا
وہی ظالم نہ اٹّھا دیکھنے کو
حریمِ ناز سے باہروہ آئیں
کھڑی ہے اک دنیا دیکھنے کو
اِدھر دَم دے دیا بیمارِ غم نے
اُدھر آیا مسیحا دیکھنے کو
نصؔیر! اُن کی گلی میں کیوں گئے تھے
یہی، اپنا تماشا دیکھنے کو؟


گزارنی تھی ترے ہجر کی پہاڑ سی رات
میں تارِ ریشم و زر کا دوشالہ کیا کرتا

حکایتِ غمِ دنیا کو چاہئے دفتر
ورق ورق مرے دل کا رسالہ کیا کرتا

ناصر کاظمی


یادِ ماضی میں جو آنکھوں کو سزا دی جائے
اِس سے بہتر ہے کہ ہر بات بُھلا دی جائے 

میں نے اپنوں کے رویوں سے یہ محسوس کیا
دل کے آنگن میں بھی دیوار اُٹھا دی جائے

میں نے یاروں کے بچھڑنے سے یہ سیکھا محسن
اپنے دشمن کو بھی جینے کی دعا دی جائے


تیری جگہ کسی دوجے سے پُر کرائی جائی کیسے
پیاسے شخص کو دُھوپ میں دوڑایا جائے کیسے

جس کو دِکھتی ہو خدا کی زات تجھ میں 
اس ایمان یافتہ کو کافر بنایا جائے کیسے







Hope You Like It. Thanks For Visiting. Stay Connected.                                                                      


If You Want More Poetry Collection Keep Visiting. 

Post a Comment

Previous Post Next Post