Welcome Here. If You are looking for Best Sad Shayri Collection Then This Post is only for you. Give It A Look. Hope You Will Like It.








#خاک_زادى 
آپ کو اچھا لگا ہے ؟ بے تحاشا کیجئے
آپ میری ذات کا کھل کر تماشہ کیجئے

کب تلک روئیں گے میت رکھ کے اپنے سامنے
بس سپرد خاک ان خوابوں کا لاشہ کیجئے

آپ کی اس بے حسی نے مار ڈالا ہے مجھے
بیٹھ کر اب میرے جیسے بت تراشا کیجئے

فرق پڑنا ہی نہیں ہے آپ کی فطرت سے اب
پل میں تولہ کیجئے یا پل میں ماشہ کیجئے

میٹھے پن میں زہر کا عنصر دکھائی دے چکا
چاہے اپنی ذات کو صاحب ! بتاشہ کیجئے

دل کے آتش دان کا بجھنا ہمیں منظور ہے 
راکھ سے چنگاریاں اب مت تلاشا کیجئے


تُم  میرا  بدن اُوڑھ  کے پھرتے  رہو  لیکن
ممکن ہو تو اِک دن میرا چہرہ مجھے دینا

تُم اپنا  مکاں جب  کرو  تقسیم  تو  یارو
گِرتی ہوئی دیوار کا سایہ مجھے دینا۔۔۔۔

جب وقت کی مرجھائی ہوئی شاخ سنبھالو ‘
اس شاخ سے ٹوٹا ہو جو لمحہ مجھے دینا

اب اے میرے احساسِ جنوں کیا مجھے دینا
دریااُسے بخشا ہے تو صحرا مجھے دینا

چُھو جائے ہوا جس سے تو خُوشبو تیری آے
جاتے ہوئے اِک زخم تو ایسا مجھے دینا

شب بھر کی مُسافت ہے گواہی کی طلبگار
اے صبحِ سفر اپنا ستارہ مجھے دینا

اِک درد کا میلہ کہ لگا ہے دل و جاں میں
اِک رُوح کی آواز کہ” رستہ مجھے دینا”

اِک تازہ غزل اِذنِ سخن مانگ رہی ہے
تُم اپنا مہکتا ھوا  لہجہ  مجھے  دینا

وہ مجھ سے کہیں بڑھ کہ مُصیبت میں تھا محسن 
رہ رہ کے مگر ____اُس کا دِلاسہ مجھے دینا




ہر شخص وہاں بِکنے کو تیار لگے تھا
 وہ شہر سے بڑھ کر کوئی بازار لگے تھا 

ہر شام دبے پاؤں نکلتا تھا کہیں سے 
 وہ رنج کوئی سایہء دیوار لگے تھا 

 کیا طرفہ طلسمات تھا آئینہء دل بھی 
 اِس پار لگا تھا مگر اُس پار لگے تھا 

اُس پیش میاں پیش نہ چلتی تھی کسو کی 
 انکار کروں تھا تو وہ اقرار لگے تھا 

ویرانی کا مسکن ہے بلا شرکتِ غیرے 
 وہ قصر جہاں شاہ کا دربار لگے تھا 

وہ عشق تھا آوازہء کہسار کی صورت 
 اک بار لگا دو تو کئی بار لگے تھا 


ہم عرصہ دراز سے زوال میں ہیں کیوں

ہم ہر طرح کی پستیوں میں گرفتار ہیں کیوں

میں نے پلٹ کر دیکھی جب اسلاف کی تاریخ

تاریخ مجھ سے یوں ہمکلام تھی

اسلاف کا مسکن تو فقط سرد چٹان تھی

ان داعی اسلام سے کانپتا تھا اس وقت کا شیطان

شیریں تھا انکا لہجہ،نصاب تھا قرآن

حلال اور حرام کا ان کو شعور تھا

بے راہ روی سے ہر بندہ پرور دور تھا

اک عورت کی اک صدا پر قلعے فتح کیے

اور حالت جنگ میں سبھی سجدے ادا کیے

ہم آسماں کا نور تھے بے نور ہو گئے

ہم دولت و امارت کے پرستار ہو گئے

قرآن و حدیث چھوڑ کر کفار کے ہم راز ہو گئے

اور اس طرح ہم آخر ذلیل و خوار ہو گئے



قیس و فرہاد کا کردار ________ ادا کرتے ہیں 
ہم کہ اس عشق کو _____ہر روز نیا کرتے ہیں 

ہم سے ناراض ہیں اس بات پہ __ پنجروں والے 
روز ہم انکے پرندوں کو _______ رہا کرتے ہیں 

پانچ وقتوں میں جو ایمان ____کما چکتے ہیں 
باقی وقتوں میں،خدا جانے وہ، کیا کرتے ہیں ؟


اِتنا تو ترے راہ بدلنے کا نہیں ہے 
‏جِتنا ترے بدلے ہوئے اطوار کا دکھ ہے 
‏ہم اِس کو مُقدر کا لِکھا کیسے سمجھ لیں 
‏ہم جان پہ کھیلے تھے ہمیں ہار کا دکھ ہے

‏رگوں میں خون کی روانی سا تھا وہ شخص
صحرا کی پیاس میں پانی سا تھا وہ شخص
.
گیا تو پھر لوٹ کے آیا ہی نہیں سائل
گزری ہوئی جوانی سا تھا وہ شخص


کوئی قسمت کا سکندر کوئی  دارا  ٹھہرا 
کوئی یوسف کی طرح ظلم کا مارا ٹھہرا 

کہیں منصور انا الحق  کی صدا دیتا ہے 
کہیں  فرہاد  کسی  آنکھ  کا تارا  ٹھہرا 

کہیں لیلیٰ ہے غمِ عشق کی ماری لڑکی 
کہیں مجنون  بیابان  سے  ہارا  ٹھہرا


تیری خوشبو اور تیری سانسیں 
قطرہ قطرہ سب بھلائیں  گے 
سلوٹیں جو تم نے چھوڑی ہیں 
دھیرے دھیرے سب مٹائیں گے


وفــا کی بستی کـے لـوگ محسنؔ
 اجــڑے اجــڑے یـہ کہہ رہے ہیں 
جہاں محبت میں کھوٹ دیکھو 
 وفــا پہ تـم بھی کـھڑے نـہ رہنا


"دل میں آج بھی تیرے چاہہت کے سوا کچھ نیں"
"ذندگی میں تیرے یاد کے سوا کچھ نیں"
"اے دوست میں تجھے تحفے میں کیا پیش کروں"
"میری جھولی میں محبت کے سوا کچھ نیں.


تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمھارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مرّوت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

کس طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو

کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو


وہ جو تھا وہ کبھی ملا ہی نہیں
سو گریباں کبھی سلا ہی نہیں

اس سے ہر دم معاملہ ہے مگر
درمیاں کوئی سلسلہ ہی نہیں

بے ملے ہی بچھڑ گئے ہم تو
سو گلے ہیں کوئی گلہ ہی نہیں

چشم میگوں سے ہے مغاں نے کہا
مست کر دے مگر پلا ہی نہیں

تو جو ہے جان، تو جو ہے جاناں
تو ہمیں آج تک ملا ہی نہیں

مست ہوں میں مہک سے اس گل کی
جو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں

ہائے، جون اس کا وہ پیالۂ ناف
جام ایسا کوئی ملا ہی نہیں

تو ہے اک عمر سے فغاں پیشہ
ابھی سینہ ترا چھلا ہی نہیں ؟


لَوحِ طمع

ملامتوں اور نفرتوں کے سوا مرے پاس اور کیا ہے
اور اِن دیاروں میں جو بھی رمز آگہی کے ایما پہ اپنا سینہ جلا رہے ہیں
جو اپنے غصوں کو آپ سہتے ہیں اُن کا سرمایہ اور کیا ہے
یہ وہ تبرک ہے جس کو لینے کے واسطے کوئی کیوں بڑھے گا
جو خون کے گھونٹ پی رہا ہے وہ جانتا ہے کہ نسلِ آدم کی سزا کیا ہے
میں چاہتا ہوں کہ نسلِ آدم کے ہر ٹھکانے کو
ناخنوں سے کھُرچ کے رکھ دوں
لبوں کی جنبش کا پردہءِ گوش سے جو رشتہ ہے اس میں کیا ہے
جو بولتا ہے وہ کرتبی ہے، جو سن رہا ہے وہ مطلبی ہے






                Thanks for Visitin. Stay Tuned and Keep Visiting. 

Post a Comment

Previous Post Next Post