Welcome Friends. In This Post You Will Find Best Collection Of Sad Shayri, Dukhi Shayri, Broken Heart Poetry. We Hope you will Like it.









میرے مطلوب و مدعا، تو جا
تجھ سے مطلب نہیں ہے جا، تو جا

اب شہادت ہوس ہے یاروں کو
ہوش معزول ہو رہا ، تو جا

ہو گیا ہوں میں تیری ذات میں گم
اب میں تیرا نہیں رہا، تو جا

اب تری بات تیری حد میں نہیں
شوق بڑھنے لگا ترا، تو جا

جانے میں کب کا آ چکا خود میں
جانے تو کب کا جا چکا، تو جا

ہے مجھے تیری جستجو کرنا
تو عجب آدمی لگا، تو جا

ہے تری ذات کیا خیال انگیز
اب ترا کام کیا رہا، تو جا

‏یوں مجھے کب تلک سہو گے تم؟
کب تلک مبتلا رہو گے تم؟
درد مندی کی مت سزا پاو۔
اب تو تم مجھ سے تنگ آجاؤ
میں کوئی مرکزِ  حیات نہیں
وجہ تخلیقِ کائنات نہیں
میرا ہر چارہ گر نڈھال ہوا
یعنی میں کیا ہو؟ وبال ہوا۔۔

ایک گماں کا حال ہے، اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے 

لمحہ بہ لمحہ، دَم بہ دَم، آن بہ آن، رَم بہ رَم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں، تو بھی گزشتگاں میں ہے 

آدمؑ و ذاتِ کبریا کَرب میں ہیں جُدا جُدا
کیا کہوں ان کا ماجرا، جو بھی ہے امتحاں میں ہے 

شاخ سے اُڑ گیا پرند، ہے دلِ شامِ دردمند
صحن میں ہے ملال سا، حُزن سا سماں میں ہے 

خودبھی بے اماں ہوں میں، تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم، وہ جو میری اماں میں ہے 

کیسا حساب، کیا حساب، حالتِ حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے، زہر زماں زماں میں ہے 

اس کا فراق بھی زیاں، اس کا وصال بھی زیاں
اِک عجیب کشمکش حلقۂ بے دِلاں میں ہے 

بُود و نبُود کا حساب، میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی ”نہیں“میرے عدم کی”ہاں“میں ہے  


‏میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو بار بار اٹھتا ہے

کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں
لے تیرا جاں نثار اٹھتا ہے

جون اٹھتا ہے یوں کہوں یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے

ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺎﻥ ﺍﺏ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﯽ💞
ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺗﮑﻠﻒ ﮐﺮﯾﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻣﯿﮟ
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺟﻠﺘﮯ ﮨﯿں
یہ جو معشوق ہیں مرے دو چار
بدکنش ، بدکلام ، بد کردار
کیسا بد صوت لفظ ہے معشوق
ہے قوافی میں جس کے اک مغلوق
یہ مرا جبر ہیں، ضرورت ہیں
میں کہ نر ہوں یہ مادہ صورت ہیں
خوب سے خوب تر؟ ارے توبہ
جون اور جستجو کرے! توبہ
جو خود آ جائے وہ لیلی ہے
ہو، اگر اس کا رنگ میلا ہے
نشے میں کاہلی کے مست ہوں میں
کہیے،ذوق نظر میں پست ہوں میں
ویسے میں بھی تو دیدہ زیب نہیں
جسم میرا بھی دلفریب نہیں
ہے مرا عکس ،زنگ آئینہ
ہوں سراپا میں ننگ آئینہ
پھر بھی اک مسئلہ تو رہتا ہے
نہ کہوں میں پہ دل تو کہتا ہے
جو بھی ہے اپنا دل ربا دلبر
ایک بھی تو نہیں ہے خوش منظر
جمع خاطر ہو کس طرح صاحب
سب کے پستان تثنیہ غائب
لوح تن کا ہے ان کی ناف بھی قاف
ناف،تڑخا ہوا پیالہ ناف
ہم کو پرچے لکھیں تو پرچوں میں
دوسرے شاعروں کے شعر لکھیں
کوئی تمیز ان کو ہے نہ شعور
پاس آداب سے ہیں کوسوں دور
ہم تو بس دل لگی کے کام کے ہیں
یعنی شاعر تو صرف نام کے ہیں
جن کے شعروں کی ہم سے داد اینٹھو
جا کے ان کے ہی کوچے میں بیٹھو
دل کی تعزیز ہے تمہارا شوق
ہم بھی اب اس قدر نہیں بدذوق



تنہا نہ پی شراب، ہمیں بھی پلا کے پی
اے پینے والے! ہم سے نگاہیں لڑا کے پی

رحمت کا آسرا ہے تو ہر غم پہ چھا کے پی
بے خوف ہو کے جام اٹھا، مسکرا کے پی

میخانہ تیرا، جام ترا، رِند بھی ترے
ساقی! مزا تو جب ہے، کہ سب کو پلا کے پی

ساغر اٹھا تو ہر غمِ دنیا کو بھول جا
پینے کا وقت آئے تو کچھ گُنگنا کے پی

شاید نہ کوئی اور جُھکے تیرے سامنے
زاہد ! زرا صُراحی کی گردن جھُکا کے پی

ساغر ہے صرف رندِ تُنک ظرف کے لیئے 
اے مے پرست ! خم کبھی منہ سے لگا کے پی

پینے میں احتیاط کا پہلو بھی چاہیئے
مخلوق کو نہ اپنا تماشا دکھا کے پی

اے بادہ کش ! وہ آج نظر سے پلائیں گے
ساغر کو پھینک، آنکھوں سے آنکھیں ملا کے پی


میں روز تجھ سےتو روز مجھ سے
ملا کرے گا_______یہ طے ہوا تھا

نہ کوئی رستہ نہ موڑ ہم کو
جدا کرے گا__یہ طے ہوا تھا

زمیں کا کوئی______بشر نہ اپنی
رفاقتوں کو_______مٹا سکے گا

کہ جب بھی ہم کوجدا کرے گا
خدا کرے گا____یہ طے ہوا تھا

کسی بات پر ہم______جھگڑ پڑے تو 
صلح کی خاطر_____اے میرے ہمدم

ذرا سا میں بھی___ذرا سا تو بھی
جھکا کرے گا______یہ طے ہوا تھا


تیڈی  یاد ھے زینت پلکیں دی
 تیکوں یاد کرینداں رو پونداں..

جڈاں گزرے پیار دے ماضی تے
 ڈوں لفظ لکھینداں رو پونداں..

تیڈے پیار اچ اے تھۓ حال میڈا
کہیں نال الینداں رو پونداں..

ھنج'‏‎شاکر'میڈے وس وچ نہیں
 تیڈا ذکر کرینداں رو پونداں..

          Thanks For Visiting. Stay Connected We will Come Back Soon With More Poetry Collection. 











Post a Comment

Previous Post Next Post